کیا الٹراساونڈ علم غیب ہے؟

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے رسول ہمیشہ اس لیے بھیجے کہ وہ اللہ کے حکم سے اللہ کے بندوں کو اللہ کے متعلق اللہ کے کاموں کے متعلق وہ کچھ بتائیں جو بندے نہیں جانتے ، اللہ اپنے بندوں میں سے جنہیں رسول چنتا ہے اُن رسولوں میں سے جسے جتنا چاہے بتاتا ہے اور وہ اس میں سے اللہ کے حُکم میں سے دوسرے بندوں کو بتاتے ہیں ،
 
 حدیث مبارکہ ہے

((((( مفاتيح الغَيبِ خَمسٌ لَا يَعلَمُهَا إلا الله لَا يَعلَمُ ما في غَدٍ إلا الله ولا يَعلَمُ ما تَغِيضُ الأَرحَامُ إلا الله ولا يَعلَمُ مَتَى يَأتِي المَطَرُ أَحَدٌ إلا الله ولا تَدرِي نَفسٌ بِأَيِّ أَرضٍ تَمُوتُ ولا يَعلَمُ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ إلا الله )))))

 

میں سے ((((( ما تَغِيضُ الأَرحَامُ ))))) کا مفہوم اس دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے۔
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا

 

 ((((( إِنَّ اللَّهَ وَكَّلَ في الرَّحِمِ مَلَكًا فيقول يا رَبِّ نُطفَةٌ يا رَبِّ عَلَقَةٌ يا رَبِّ مُضغَةٌ فإذا أَرَادَ أَن يَخلُقَهَا قال يا رَبِّ أَذَكَرٌ يا رَبِّ أُنثَى يا رَبِّ شَقِيٌّ أَم سَعِيدٌ فما الرِّزقُ فما الأَجَلُ فَيُكتَبُ كَذَلِكَ في بَطنِ أُمِّهِ ::: اللہ تعالیٰ بچہ دانی میں ایک فرشتہ مقرر کرتا ہے تو وہ فرشتہ ( وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مختلف مراحل کے مطابق )کہتا ہے اے رب نطفہ ہے ، اے رب علقہ ہے اے رب مضغہ ہے ، پھر جن اللہ اس کی تخلیق کا ارادہ فرماتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے ( اللہ سے سوال کرتے ہوئے ) کہتا ہے اے رب مذکر ہے ؟ اے رب مؤنث ہے ؟ اے رب بد نصیب ہے یا خوش نصیب ہے ؟ اس کا رزق کیا ہے ؟ اس کی موت کب ہے ؟ پس اسی طرح (جب وہ بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو )اس بچے کی ماں کے پیٹ میں (ہوتے ہوئے ) اس کے لیے یہ سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے ))))) صحیح البُخاری ، کتاب الأنبیاء ، باب 2 ،


لہذا اللہ نے انسان کو جو وسائل عطا فرمائے وہ مادی طور پر کسی بچے کی جمسانی ساخت میں سے بالخصوص اس کے خصیے جسم کے اندر یا باہر ہونے کو دیکھ کر یہ اندازہ کرتے ہیں کہ وہ مذکر ہے یا مؤنث ، اس کے بعد والے معاملات یعنی اس کا خوش نصیب ہونا یا بد نصیب ہونا اور اس کا رزق اور اس کی موت کا وقت ، یہ وہ چیزیں جو اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی جان سکتا ہے کیونکہ یہ چیزیں کسی بھی طور کسی مادی پیمانے کے ذریعے جانی نہیں جا سکتی ہیں،
جی صرف وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا جیسا چاہا اپنے چنیدہ رسولوں علیھم السلام میں سے جسے چاہا بتا دیا ،


مادی وسائل کے ذریعے کسی چیز کا اندازہ کر لینا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرامین میں ذکر کردہ علم غیب کی خبر حاصل کرنا نہیں ، اور نہ ہی مادی وسائل کے ذریعے دور سے انسانی حسیات اور استطاعت سے خارج آوازوں کو سننا اور چیزوں کا دیکھنا کسی طور """ علم غیب """ میں سے کچھ جاننا ہے ،
اور اسی طرح """ علم غیب """ انسانی جہالت کا نام نہیں. بلکہ یہ وہ علم ہے جو اللہ نے صرف اپنے پاس رکھا ہے اور جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ اس میں سے صرف اپنے چنیدہ رسولوں علیھم السلام کو جتنا اور جب اور جیسا چاہا بتایا

 

واللہ و اعلم با الصواب،